(فوٹورائٹرز)
رواں سال (2026) کے آغاز سے 13 ستمبر تک غرب اردن میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی توسیع کے 100 منصوبے سامنے آئے ہیں، جن میں 12,300 نئی یونٹس شامل ہیں۔
فلسطینی ادارے کے مطابق رواں سال کے آغاز سے 13 ستمبر تک غرب اردن میں یہودی بستیوں کی توسیع کے 100 منصوبے سامنے آچکے ہیں جبکہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی 5,783 نئی یونٹس کی تعمیر کے 53 منصوبے زیر غور ہیں۔
فلسطینی وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مانیٹرنگ اور دستاویزی اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ غرب اردن میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی توسیع کے منصوبوں میں رواں سال کے دوران نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔
کمیشن کے مطابق 2026 کے آغاز سے 13 ستمبر تک غرب اردن میں بستیوں کی توسیع کے مجموعی طور پر 100 استعماری منصوبے سامنے آئے، جن میں تقریباً 12,300 نئی رہائشی یونٹس شامل ہیں۔
کمیشن نے اتوار کو جاری بیان میں بتایا کہ مقبوضہ بیت المقدس میں بھی بستیوں کی توسیع کا سلسلہ جاری ہے۔ قابض اسرائیلی میونسپلٹی کی حدود میں 53 اضافی منصوبوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جن کے تحت 5,783 نئی استعماری یونٹس تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔
بیان کے مطابق صرف ستمبر کے دوران 12 رہائشی منصوبوں کو آگے بڑھایا گیا۔ ان میں چار ایسے منصوبے شامل ہیں جنہیں باضابطہ طور پر شائع کیا گیا اور ان کے تحت مجموعی طور پر 670 یونٹس شامل ہیں۔ ان میں 494 یونٹس منظوری یا جمع کرانے کے مرحلے جبکہ 176 یونٹس نفاذ کے مرحلے میں ہیں۔
اس کے علاوہ 9 ستمبر کو ہونے والے پلاننگ کمیٹی کے اجلاس کی کارروائی میں مزید 8 منصوبے شامل کیے گئے، جن کے نتیجے میں 1,670 نئی اور اضافی یونٹس کا اضافہ متوقع ہے۔ ان میں 1,105 یونٹس جمع کرانے کے لیے جبکہ 565 یونٹس نفاذ کے لیے مختص ہیں۔ یہ منصوبے مجموعی طور پر 1,761 دونم اراضی پر پھیلے ہوئے ہیں۔
کمیشن کے مطابق ستمبر کے دوران اسرائیلی بستیوں کو مزید مستحکم کرنے کے مقصد سے 749 یونٹس کے مطالعے کے لیے بھی مختص کیے گئے۔ ان میں عمیحای/عدی عاد، عین یطاف اور معوز کے منصوبے شامل ہیں۔اسی دوران تلمون بستی کے منصوبے کے تحت حاراشا آؤٹ پوسٹ کو قانونی حیثیت دینے کے لیے مزید 464 یونٹس مختص کیے گئے ہیں۔
فلسطینی کمیشن نے ان اقدامات کو غرب اردن میں اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع، فلسطینی علاقوں کے الحاق کی کوششوں اور اسرائیلی پالیسیوں کے تسلسل کا حصہ قرار دیا ہے جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے پس منظر میں بستیوں کی توسیع نے فلسطینی علاقوں کی صورتِ حال اور دو ریاستی حل کے مستقبل سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔





