(فوٹو اے آئی)
بیلجیم کے فلینڈرز میں حجاب کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں مشرقی فلینڈرز صوبے نے حجاب اتارنے سے انکار پر خاتون ٹیچر خدیجہ امجود کو ملازمت سے برطرف کر دیا۔
یلجیم کے مشرقی فلینڈرز صوبے میں حجاب نہ اتارنے پر خاتون ٹیچر کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا، جسے فلینڈرز میں کسی ٹیچر کو حجاب پہننے کی بنیاد پر برطرف کیے جانے کا پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بیلجیم کے مشرقی فلینڈرزصوبے (East Flanders Province) میں ایک خاتون ٹیچرکو ملازمت کے دوران حجاب اتارنے سے انکار پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا۔ برطرف کی جانے والی ٹیچر خدیجہ امجود نے خود بھی اس فیصلے کی تصدیق کی ہے۔
بیلگا کے مطابق امجود یکم ستمبر 2022 سے صوبائی تعلیمی نظام سے وابستہ تھیں اور اسینیدے میں قائم Kiempunt Campus Assenede نامی خصوصی پرائمری اسکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں ۔ وہ روانی سے ڈچ زبان بولتی ہیں اور دورانِ ملازمت ان کی کارکردگی کے حوالے سے کبھی کوئی منفی جائزہ سامنے نہیں آیا۔
امجود کو یکم جنوری 2024 کو مستقل ملازمت بھی دے دی گئی تھی۔ تاہم بعد میں حجاب سے متعلق صوبائی ضوابط میں تبدیلی نے ان کی ملازمت کو خطرے میں ڈال دیا۔
صوبائی حکام نے 27 جون 2024 کو عملے کے ضوابط میں ترمیم کی، جس کے تحت یکم ستمبر 2024 سے نمایاں مذہبی اور فلسفیانہ علامات پہننے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس پابندی سے مذہب یا فلسفے سے متعلق مضامین پڑھانے والے اساتذہ کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
امجود کا کہنا ہے کہ معاملہ صرف حجاب کا نہیں بلکہ اس سوال کا بھی ہے کہ ایک آجر(Employer) کو کسی استاد کی ذاتی آزادی محدود کرنے کا کس حد تک اختیارحاصل ہے۔ انہوں نے صوبائی حکام کی جانب سے غیر جانب داری کی تشریح کو خالصتاً سیاسی قرار دیا۔
رواں برس کے آغاز میں مشرقی فلینڈرز کی صوبائی انتظامیہ نے صوبائی تعلیمی اداروں میں طلبہ کے حجاب پہننے پر بھی پابندی عائد کرنے کے لیے غیر جانب داری کے قواعد متعارف کرائے تھے۔ ان قواعد کے تحت تعلیمی عملے کی جانب سے ضوابط کی پابندی کی بھی سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔
خدیجہ امجود نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس فیصلے سے وہ صرف ملازمت ہی نہیں بلکہ اپنی آمدنی، معاشی تحفظ اور مستقل تقرری بھی کھو رہی ہیں۔ ان کے مطابق، میں نے جو کچھ بنایا تھا، وہ سب اچانک ختم ہو گیا۔





