حماس غیرمسلح ہونے پرراضی،قاہرہ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

Published On: 31 July, 2026 09:32 AM

Urdu Vision Desk : مصنف

WhatsApp
Facebook
Twitter
حماس غیرمسلح ہونے پرراضی،قاہرہ مذاکرات کے بعد ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

(فوٹوفائل رائٹرز)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ’غیر مسلح ہونے‘ کے حوالے سے ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔ اس معاہدے کے حوالے سے حماس اور اسرائیل کے موقف میں اختلاف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ میں حماس اور دیگر گروپوں کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کاایک تاریخی معاہدہ طے پا گیا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ بورڈ آف پیس نے حماس اور غزہ کے دیگر تمام مسلح گروپوں کی مکمل غیر مسلحی کے لیے ایک تاریخی معاہدہ حاصل کر لیا ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل مختلف مراحل میں مکمل ہوگا اور اس سے خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار ہوگی۔
قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ٹرمپ نے یہ اعلان کیا۔

ٹرمپ کے مطابق یہ معاہدہ غزہ میں ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے قیام کی بنیاد بنے گا، جو بورڈ آف پیس کے ساتھ مل کر علاقے کا نظم و نسق سنبھالے گی۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے اسرائیل کو بھی مطلوبہ سکیورٹی حاصل ہوگی اور غزہ مستقبل میں اسرائیل پر حملوں کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گا۔

تاہم حماس نے ٹرمپ کے اس دعوے کی مکمل توثیق نہیں کی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ زیر غور 'ابتدائی مسودے' میں صرف بھاری ہتھیاروں کو نئی فلسطینی انتظامیہ کی نگرانی میں رکھنے کی تجویز دی گئی ہے اور انہیں اسرائیل کے حوالے کرنے کی کوئی شرط شامل نہیں۔

حماس کی مذاکراتی ٹیم کے رکن غازی حمد نے الجزیرہ سے گفتگو میں واضح کیا کہ اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلا سے قبل تنظیم غیر مسلحی کے حوالے سے کوئی عملی قدم نہیں اٹھائے گی۔

دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے میڈیا کوبتایا کہ اسرائیل کو اب بھی اس بات پر شدید شکوک ہیں کہ حماس واقعی اپنے ہتھیار چھوڑ دے گی، اگرچہ واشنگٹن کو امید ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد ہوگا۔

ادھر ایک اسرائیلی عہدیدار نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، کہا کہ اسرائیل پہلے ہی اس 15 نکاتی مسودے پر اپنے تحفظات سے ثالثوں کو آگاہ کر چکا ہے۔

ان کے مطابق اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حماس کی مکمل غیر مسلحی، غزہ سے تمام ہتھیاروں کا خاتمہ اور پورے علاقے کی مکمل غیر فوجی حیثیت کسی بھی سیاسی عمل سے پہلے یقینی بنائی جائے۔

غزہ کے مستقبل کا مجوزہ منصوبہ
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ منصوبے کے تحت

1-غزہ میں ایک غیر عسکری فلسطینی سول انتظامیہ قیام 
2-اسرائیلی افواج مرحلہ وار غزہ سے انخلا۔
3-انسانی امداد میں نمایاں اضافہ 
4-امن و امان کی برقراری کے لیے بین الاقوامی استحکامی فورس تعیناتی
5سرنگوں، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات کا مکمل  خاتمہ

ٹرمپ کے غزہ کے لیے خصوصی ایلچی نکولے ملادینوف نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایسا غزہ تعمیر کرنا ہے جو فلسطینیوں کے زیر انتظام ہو، اسرائیل کے ساتھ امن میں رہے اور اسرائیل۔فلسطین تنازع کے سیاسی حل کی جانب پیش رفت ممکن بنائے۔

زمینی صورتحال اب بھی کشیدہ
اگرچہ مذاکرات جاری ہیں، لیکن غزہ میں لڑائی بدستور جاری ہے۔فلسطینی طبی حکام کے مطابق جمعرات کو اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم چھ فلسطینی جاں بحق ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف حماس کے جنگجو تھے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اسرائیل غزہ کے تقریباً 70 فیصد حصے پر اپنا کنٹرول مزید بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس سے مجوزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے حوالے سے سوالات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔